’’ بہت ہو گیا‘‘
نیٹو کی طرف سے مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہے،اس سے پہلے بھی بار ہا اس طرح کے حملے کیے گئے ہیں جن میں سَتر سے زائد پاکستانی فوجی جوان اور افسر شہید ہو چکے ہیں۔سویلین آبادی پر حملے اس کے علاوہ ہیں جس سینکڑوں پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔جس کی بد ترین مثال کچھ عرصہ قبل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تیس کلومیٹر دور پاک افغان سرحد کے قریب ہی امریکی طیارے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سر زمین میں داخل ہوئے اور اکیس افراد کو شہید کرتے ہوئے واپس اپنے اڈوں پر پہنچ گئے۔ان میں بچے ،بوڑھے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔میں نے اپنے سابقہ کالم میں لکھا تھا کہ’’ پہلا تھپڑ‘‘ مارنے والے کی غلطی ہوا کرتا ہے مگر اگر’’ دوسرا تھپڑ‘‘ پڑے تو اس میں سرا سر آپ کی غلطی ہوتی ہے کیونکہ آپ اس کو دوسرا تھپڑ مارنے کا موقع دیتے ہیں تو وہ دوسرا تھپڑ مارتا ہے، اگر آپ تھپڑ مارنے والے کو پہلے تھپڑ پر ہی جواب دے دیں تو اس کی جرات ہی کیا ہے کہ وہ آپ کے دوسری چماٹ مارے۔ جب پہلا ایسا حملہ کیا گیا تھا اگر اس وقت اس کا کوئی سدِباب کیا جاتا ،تو �آج کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں کو یوں شہید کیا جاتا۔پاکستانی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس ہوا ،نیٹو اور ایساف کی سپلائی لائین بند کر دی گئی،امریکہ سے شمسی ائیر بیس پندرہ روز خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ابھی بون کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کرنا ہے ،وزیرا عظم نے رات ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکہ کو انتہائی سخت پیغام دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بہت ہوگیا ہے ہم اپنی خارجہ پالیسی ،امریکہ سے ہمارے تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف (نام نہاد) جنگ کی پالیسی پر بھی نظر ثانی کی جائے گی۔اور امریکہ ،نیٹو اور تما م سٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعلقات استوار کیے جائیں گے جس پر امریکی حکام برہم نظر آتے ہیں ،کوئی کہتا نظر آیا کہ پاکستانی یوں ہی واویلا کر رہا ہے پہلے بھی تو یہ ہوتا رہا ہے اب اتنا غصہ کیوں دوسری طرف وہی پرانی دھمکی پاکستان کی امداد بند کر دی جائے تیسری طرف کیری لوگر بل اور سب پرانے پتے امریکہ پھر سے میدان میں لے آیا ہے جب کہ ایک طرف ایک آدھ امریکی سینٹر یہ بھی کہتا پایا گیا کہ پاکستان پر ایسا دباؤ نا ڈالا جائے مطلب یہ امریکہ کا قومی نشان جو ہوا ایک ہاتھ میں گاجر اور دوسرے میں چھڑی اگر گاجر سے مان جائے تو’ فابِہاَ‘ ورنہ چھڑی دکھاؤ۔
قارئین حکومت نے اچھے فیصلے کیے ہیں مگر کیا سپلائی لائین کاٹ دینے سے یا مذمت کرنے سے وہ فوجی جوان اور افسر کو شہید ہوئے واپس آجائیں گے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،آپ کے ساتھ ہم بھی مذمت کرتے ہیں ہم بھی آپ سپلائی لائین کے کٹ جانے پر خوش ہیں مگر اگر ایسا نہیں تو خدارااب مذمت نہیں مذاحمت کریں تین سے چار گھنٹے تک نیٹو ہیلی کاپٹرز پاکستانی چوکی پر حملہ کرتے رہے تو اس وقت پاکستانی ائیر فورس کہاں تھی ؟کیا پاکستانی ائیر فورس کو اپنے فوجیوں کی امداد کے لیے نہیں پہنچنا چاہیے تھا ؟کیا آرمی کو یہ خیال ہی نہیں آیا کہ اگر وہ خود نہیں رکتے تو ہم انہیں زبردستی روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔تین سے چار گھنٹے آپ ان کی منت سماجت کرتے رہے اگر یہی وقت ایک خوددار فوج کی طرح منہ توڑ جواب دینے میں لگتا تو یہ کیفیت نہیں ہونی تھی ، قارئین آپ کو یاد ہو گا ایک بار پہلے بھی 14 مئی 2011 کو یہی کچھ ہوا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہوا فیصلہ کیا گیا کہ نیٹو اور ایساف کی سپلائی لائین بند کر دی جائے اور امریکہ سے شمسی ائیر بیس فل گور خالی کروائی جائے مگر ہوا کیا وہ سب دعوے خالی خولی بڑھکیں ثابت ہوئیں سپلائی بھی ہوتی رہی اور امریکہ بھی شمسی ائیر بیس پر براجمان رہا ۔ْارئین ہم دنیا میں وہ واحد قوم ہیں دنیا کا وہ واحد ملک ہیں جس نے غیروں کی کئی جنگیں لڑی ہیں ،غیروں کو محفوظ بنانے اور رکنے کے لیے ہم اپنا ہی چہرہ نوچتے ہیں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑیاں مارتے ہیں۔اور پھر زخمی ہونے کا واویلا بھی ہم خود ہی کرتے ہیں۔ہم دنیا کی وہ واحد قوم ہیں جو دوسروں کی جنگ لڑ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔اس کا باقائدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں دوسروں کی جنگ کو نا صرف اپنا گردانتے ہیں بلکے ہم لوگ اس جنگ کو اپنے ملک کے کونے کونے میں پہنچاتے ہیں یہی نہیں ہم لوگ دنیا میں وہ واحد ملک ہیں جن پر روز حملے بھی ہوتے ہیں مگر ہمارے حکمران خواہ وہ فوجی ہوں ہوں حکومتی سب ’’ہم ایک خود مختار ملک ہیں،کوئی دشمن ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا‘‘ کی گردان کرتے نہیں تھکتے۔اور ساتھ ہی ایبٹ آباد میں ہوئی امریکی کاروائی بھی ایک ہی ڈکار میں ہضم کر جاتے ہیں۔دوسری طرف روزانہ کی بناید پر ہوتے ڈرون حملے بھی ہماری خود مختاری کو کوئی آنچ نہیں پہنچاتے۔یہ تو رہا ایک طرف ہماری فوج تو خود پاکستانی علاقوں کو ہی فتح کرنے چل پڑتی ہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی فوج پاکستانیوں کے خون پسینے کی کمائی پر نہیں پل رہی اگر جواب ہاں میں ہے تو پاکستانی فوج عام پاکستانیوں کی شہادت پر جو ڈرون حملوں میں شہید ہوتے ہیں ان کی شہادت کا ہی بدلہ لیتی تو آج یوں ان کے اپنے جوانوں اور افسروں کی شہادتوں کے منہ نہیں دیکھنا پڑتے۔ہم ہر بار لکھتے ہیں اب وقت آ گیا ہے بھائی وقت تو تب ہی آگیا تھا جب جنرل مشرف کی حکومت ختم ہوئی تھی اسی جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے کہ آج ہماری افواج اپنی ہی سرحدوں پر خود کو غیر محفوظ تصورکرتی ہیں ۔ہمیں اب یہ پرائی جنگ اپنے گلے سے اتار پھینکی چاہیے،کیونکہ اگر ہم مذید اس جنگ کا حصہ بنے رہے تو کئی بربادیاں اور تباہیاں اس ملک کی راہ دیکھ رہی ہوں گی،مشکل ہے مگر اب یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ نیٹو اور امریکہ ،ایساف سپلائی لائین مستقل بند کر دینی چایئے ،اس نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے جان چھڑا لینی چاہیے ،کیونکہ امریکہ اور ایساف ،نیٹو سمیت کوئی بھی پاکستانی کردار بارے کبھی بھی مطمئن نہیں گا ،اب ہمیں اپنے کیے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہو گا جو فیصلے کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے لیے ہیں جو فیصلے عسکری قیادت نے لیے ہیں جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بیانات دیئے ہیں،ان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی ،امریکہ کے متعلق پالیسی ،اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی ،اور ملک کے مفاد میں صرف پاکستان کے مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دی جائیں تو میرا نہیں خیال کہ کوئی ملک کسی ملک کی فوج یا کوئی دشمن آپ کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی کوشش کرے گا۔ ور نہ اگر اب بھی پرانی ریت برقرار رکھی جاتی ہے کہ صرف خالی دعوں اور کھوکھلے بیانات کے بعد سب کچھ وہی ہونا ہے تو یہ جان لیں کہ آپ کے ساتھ پھر ہو گا’’ جوجنگ لڑے بغیر جنگ ہارنے والی قوموں کے ساتھ ہوتا ہے‘‘وزیراعظم نے کہا ’’بہت ہو گیا‘‘ اب اس پر قائم ہو جانا چاہیے ۔ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ واقعہ ہی بہت کچھ ہو گیا ہے۔۔اس لیے ڈت جانے میں ہی اس ملک کی بقاء ہے۔۔۔
قارئین حکومت نے اچھے فیصلے کیے ہیں مگر کیا سپلائی لائین کاٹ دینے سے یا مذمت کرنے سے وہ فوجی جوان اور افسر کو شہید ہوئے واپس آجائیں گے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،آپ کے ساتھ ہم بھی مذمت کرتے ہیں ہم بھی آپ سپلائی لائین کے کٹ جانے پر خوش ہیں مگر اگر ایسا نہیں تو خدارااب مذمت نہیں مذاحمت کریں تین سے چار گھنٹے تک نیٹو ہیلی کاپٹرز پاکستانی چوکی پر حملہ کرتے رہے تو اس وقت پاکستانی ائیر فورس کہاں تھی ؟کیا پاکستانی ائیر فورس کو اپنے فوجیوں کی امداد کے لیے نہیں پہنچنا چاہیے تھا ؟کیا آرمی کو یہ خیال ہی نہیں آیا کہ اگر وہ خود نہیں رکتے تو ہم انہیں زبردستی روکنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔تین سے چار گھنٹے آپ ان کی منت سماجت کرتے رہے اگر یہی وقت ایک خوددار فوج کی طرح منہ توڑ جواب دینے میں لگتا تو یہ کیفیت نہیں ہونی تھی ، قارئین آپ کو یاد ہو گا ایک بار پہلے بھی 14 مئی 2011 کو یہی کچھ ہوا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہوا فیصلہ کیا گیا کہ نیٹو اور ایساف کی سپلائی لائین بند کر دی جائے اور امریکہ سے شمسی ائیر بیس فل گور خالی کروائی جائے مگر ہوا کیا وہ سب دعوے خالی خولی بڑھکیں ثابت ہوئیں سپلائی بھی ہوتی رہی اور امریکہ بھی شمسی ائیر بیس پر براجمان رہا ۔ْارئین ہم دنیا میں وہ واحد قوم ہیں دنیا کا وہ واحد ملک ہیں جس نے غیروں کی کئی جنگیں لڑی ہیں ،غیروں کو محفوظ بنانے اور رکنے کے لیے ہم اپنا ہی چہرہ نوچتے ہیں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑیاں مارتے ہیں۔اور پھر زخمی ہونے کا واویلا بھی ہم خود ہی کرتے ہیں۔ہم دنیا کی وہ واحد قوم ہیں جو دوسروں کی جنگ لڑ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔اس کا باقائدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں دوسروں کی جنگ کو نا صرف اپنا گردانتے ہیں بلکے ہم لوگ اس جنگ کو اپنے ملک کے کونے کونے میں پہنچاتے ہیں یہی نہیں ہم لوگ دنیا میں وہ واحد ملک ہیں جن پر روز حملے بھی ہوتے ہیں مگر ہمارے حکمران خواہ وہ فوجی ہوں ہوں حکومتی سب ’’ہم ایک خود مختار ملک ہیں،کوئی دشمن ہماری سرحدوں کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتا‘‘ کی گردان کرتے نہیں تھکتے۔اور ساتھ ہی ایبٹ آباد میں ہوئی امریکی کاروائی بھی ایک ہی ڈکار میں ہضم کر جاتے ہیں۔دوسری طرف روزانہ کی بناید پر ہوتے ڈرون حملے بھی ہماری خود مختاری کو کوئی آنچ نہیں پہنچاتے۔یہ تو رہا ایک طرف ہماری فوج تو خود پاکستانی علاقوں کو ہی فتح کرنے چل پڑتی ہے ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی فوج پاکستانیوں کے خون پسینے کی کمائی پر نہیں پل رہی اگر جواب ہاں میں ہے تو پاکستانی فوج عام پاکستانیوں کی شہادت پر جو ڈرون حملوں میں شہید ہوتے ہیں ان کی شہادت کا ہی بدلہ لیتی تو آج یوں ان کے اپنے جوانوں اور افسروں کی شہادتوں کے منہ نہیں دیکھنا پڑتے۔ہم ہر بار لکھتے ہیں اب وقت آ گیا ہے بھائی وقت تو تب ہی آگیا تھا جب جنرل مشرف کی حکومت ختم ہوئی تھی اسی جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے کہ آج ہماری افواج اپنی ہی سرحدوں پر خود کو غیر محفوظ تصورکرتی ہیں ۔ہمیں اب یہ پرائی جنگ اپنے گلے سے اتار پھینکی چاہیے،کیونکہ اگر ہم مذید اس جنگ کا حصہ بنے رہے تو کئی بربادیاں اور تباہیاں اس ملک کی راہ دیکھ رہی ہوں گی،مشکل ہے مگر اب یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ نیٹو اور امریکہ ،ایساف سپلائی لائین مستقل بند کر دینی چایئے ،اس نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے جان چھڑا لینی چاہیے ،کیونکہ امریکہ اور ایساف ،نیٹو سمیت کوئی بھی پاکستانی کردار بارے کبھی بھی مطمئن نہیں گا ،اب ہمیں اپنے کیے فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہو گا جو فیصلے کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے لیے ہیں جو فیصلے عسکری قیادت نے لیے ہیں جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بیانات دیئے ہیں،ان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی ،امریکہ کے متعلق پالیسی ،اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی ،اور ملک کے مفاد میں صرف پاکستان کے مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دی جائیں تو میرا نہیں خیال کہ کوئی ملک کسی ملک کی فوج یا کوئی دشمن آپ کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی کوشش کرے گا۔ ور نہ اگر اب بھی پرانی ریت برقرار رکھی جاتی ہے کہ صرف خالی دعوں اور کھوکھلے بیانات کے بعد سب کچھ وہی ہونا ہے تو یہ جان لیں کہ آپ کے ساتھ پھر ہو گا’’ جوجنگ لڑے بغیر جنگ ہارنے والی قوموں کے ساتھ ہوتا ہے‘‘وزیراعظم نے کہا ’’بہت ہو گیا‘‘ اب اس پر قائم ہو جانا چاہیے ۔ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ واقعہ ہی بہت کچھ ہو گیا ہے۔۔اس لیے ڈت جانے میں ہی اس ملک کی بقاء ہے۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں